نئی دہلی،15جون؍(ایس اونیوز/آئی این ایس انڈیا)عشرت جہاں معاملے سے متعلق لاپتہ فائلوں کی تحقیقات کر رہے ایک رکنی انکوائری کمیشن نے کہا ہے کہ ستمبر 2009میں کاغذات دانستہ یاغیردانستہ طورپرہٹائے گئے یا کھو گئے ۔اس دوران کانگریس لیڈر پی چدمبرم وزیر داخلہ تھے۔وزارت داخلہ میں ایڈیشنل سکریٹری بی کے پرساد نے مرکزی داخلہ سکریٹری راجیو مہشر کو جمع کی گئی اپنی انکوائری رپورٹ میں کہا ہے کہ وزارت داخلہ سے گم ہو گئے عشرت جہاں مبینہ فرضی تصادم معاملے سے متعلق پانچ دستاویزات میں سے صرف ایک دستاویزملاہے۔انکوائری کمیٹی نے کہا ہے کہ ظاہر ہے کہ دستاویزات جان بوجھ کریاغیردانستہ طورپرہٹائے گئے یاکھوگئے۔اگرچہ انکوائری کمیشن نے رپورٹ میں چدمبرم یا اس وقت کے یو پی اے حکومت کے کسی دوسرے شخص کا کوئی ذکرنہیں کیا۔کانگریس لیڈر چدمبرم اس وقت وزیر داخلہ تھے۔اس وقت داخلہ سکریٹری جی کے پلے سمیت 11حاضر سروس اورریٹائرڈ افسران کے بیانات پر مبنی 52صفحات کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ دستاویزات 18سے 28ستمبر، 2009کے درمیان لاپتہ ہو گئے۔اس معاملے میں گجرات ہائی کورٹ میں 29ستمبر، 2009کو دوسرا حلف نامہ داخل کیا گیا جو پہلے سے مختلف تھا۔اس میں کہا گیا تھا کہ اس بات کے حتمی ثبوت نہیں ہیں کہ عشرت لشکر طیبہ کی رکن تھی۔